الجواب حامداًومصلیاً
ٹکٹ چیکر اور گارڈ کو اجازت دینے کا اختیار نہیں،لہذا اس طرح بغیر ٹکٹ سفر کرنا جائز نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ایسا کر لیا ہو تو اس کا کرایا دینا لازمی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کرائے کے برابر ٹکٹ لے کر ضائع کر دیا جائے۔
لمافی شرح المجلہ :(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب، ولبس، ووضع جذع علی حائط ،ودخول دار ،ومرور بارض،ومن اعارۃ،وایداع واجارۃ وصلح ،وھبۃ،وبیع،ورھن،وھدم،وبناء
وفی شرح المجلہ:(1/265،رشیدیہ)
فمن تناول مال احد باحدی ھذہ الطریق فھو ظالم غاصب یجب علیہ ردہ قائما،اومثلہ او قیمتہ ھالکا
وکذافی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4789،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(5/119،رشیدیہ)
وکذافی سنن الدار قطنی :(3/22،دارالکتب)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:148