سوال

سڑک پرموجود بارش کا پانی پاک ہےیا ناپاک؟ اور بارش کےپانی کی چھینٹیں کپڑوں پر پڑجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً و مسلماً

سڑک پر موجود بارش کا پانی پاک ہے اور چھینٹیں کپڑوں پر پڑنےسے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لیکن اگر اس پانی میں نجاست نظر آرہی ہو یا گٹر وغیرہ پانی کی واضح امیزش ہو پھر وہ پانی ناپاک ہے اس سے کپڑے بھی ناپاک ہوتے ہیں۔

لما فی الشامیہ (1/583،رشیدیہ)
”قولہ وطین شارع مبتداخبرہ قولہ:”عفو”والشارع:الطریق وفی الفیض:طین الشوارع عفو وان ملا الثوب للضرورۃ ولو مختلطاً بالعذرات وتجوز الصلاۃ معہ․“
وفی بدائع الصنائع (1/235،رشیدیہ)
”وروی عن محمد فی الروث انہ لا یمنع جواز الصلاۃ وان کان کثیراً فاحشاً وقیل ان ھذا آخر اقاویلہ حین کان بالری وکان الخلیفۃ بھا فرای الطرق والخانات مملوءۃ من الارواث وللناس فیھا بلویٰ عظیمۃ،
فعلیٰ ھذا القیاس قال بعض مشایخنا بما وراء النھر ان طین بخاریٰ اذا اصاب الثوب لا یمنع جواز الصلاۃ وان کان کثیراً فاحشاً لبلویٰ الناس فیہ لکثرۃ العذرات فی الطرق․
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/57،الطارق)         وکذا فی البحر الرائق(1/904،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ(1/47، رشیدیہ)         وکذا فی الفتاویٰ التاتار خانیہ(1/428،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(158،قدیمی کتب خانہ)          وکذا فی تبیین الحقائق(1/74،امدادیہ)
وفی المحیط البرھا نی(1/364،دار احیاء تراث العربی)     وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الد”ر(1/161،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
21/4/1443-2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:142

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔