سوال

ایک آدمی مسبوق ہےایک رکعت اس کی جماعت سے رہ گئی ہےجب امام نے نماز مکمل کرنے پر سلام پھیرا تو اس مسبوق کو اپنی رکعت کا رہنا یاد نہ رہااور امام کے ساتھ سلام پھیر دیا بعد میں دعاکرتے ہوئےیاد آیاپھر وہ اسی طرح کھڑا ہوااور وہ رکعت پور ی کی اور سجدہ سہو بھی کرلیا اب اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

دونوں ہاتھ اٹھا کردعاکرنا ”عمل کثیر“ہے ،لہذاس کی نماز نہیں ہو ئی،دبارہ پڑھے۔

لمافی المحیط البرھانی :(3/112/دار احیاءتراث العربی)
المسبوق إذا سلم مع الإمام ساهياً، ومسح يديه على وجهه بعد السلام كما يفعل في العادة، ثم تذكر ليس الكثير، فيصير خارجاً من الصلاة، ويؤيده رواية مكحول النسفي عن أبي حنيفة أن من رفع يديه عند الركوع، أو عند رفع الرأس من الركوع تفسد صلاته،
وکذافی الفتاوی التاتارخانية):(2/426،فاروقية) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1040،رشید یہ)
وکذافی الشامیة:(2/422،رشیدیہ) وکذافی مجمع الانھر:1/222،المنار)
وکذافی غنيةالمستملی:425،رشیدیہ) وکذافی خلاصة الفتاوی:1/174،رشیدیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی:(465،قدیمی) وکذافی البحر الرائق:(2/176،رشیدیہ)

واللہ اعلم با لصواب
محمد علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارلافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
18/6/1440،2019/2/24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:20

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔