سوال

کہ محمود ولد محمد بشیروفات پاگئےہیں ان کی وراثت تقریبا 7 کنال 8 مرلےہیں جس میں بیوہ ساجدہ اورمحمود کی تین بہنیں اور ایک چچا یعقو ب دعویدارہیں کہ ہم کو یہ وراثت مل جائے،توآپ یہ تحریر فرما دیں کہ ان کوشرعی طور پروراثت کیسے تقسیم ہو گی اور کون وراثت کے حق دارہیں ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 36 برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 9حصے (٪25)بیوی کو ، 8 حصے (٪22․22 )ہر بہن کو ، 3حصے (٪33․8) چچا کو دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے بیوی کو 37 مرلے، ہر بہن کو89․32 مرلے اور چچا کو 33․12 مرلے ملیں گے۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 9 ٪25 37 مرلے
2 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
3 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
4 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
5 چچا 3 ٪8.33 12.33 مرلے
میزان 5 36 ٪99.99 148 مرلے

لما فی تبیین الحقائق : ( 6 / 236 ، امدادیہ )
والأخوات لأب وأم كبنات الصلب عند عدمهن) أي عند عدم البنات وبنات الابن حتى يكون للواحدة النصف، وللثنتين الثلثان، ومع الإخوة لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {قل الله يفتيكم في الكلالة إن امرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك وهو يرثها إن لم يكن لها ولد فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترك.
لما فی البحر الرائق : ( 9 / 381 ، رشیدیہ )
وعصبة أي من يأخذ الكل) أي إذا انفرد وما أبقته أصحاب الفروض… فنقول العصبة نوعان : عصبة بالنسب وعصبة بالسبب فالعصبة بالنسبة ثلاثة أنواع عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى
فیہ ایضا : ( 9 / 383 ، رشیدیہ )
والأحق الابن، ثم ابنه، وإن سفل ثم الأب، ثم أب الأب، وإن علا ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم الأعمام، ثم أعمام الأب، ثم أعمام الجد على الترتيب
وکذا فی الھندیة :(6 / 447 ، 450،451،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 23/284،298،308،داراحیاءترات العربی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 20/218،242،224،فاروقیة)
وکذافی مجمع الانھر : (4 /493،503،المنار)
وکذافی الشامیة : (10/528،550،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط :(29/155،147،دارالمعرفة)
وکذافی السراجی :(2،14،7،شرکت علمیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7727،7773،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعة الحسن ساہیوال
14/5/1440 ،2019/1/21
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:100

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔