سوال

ناپا ک بستر کے اوپر بیٹھ کر ذکر وتلاوت کرنےکاکیا حکم ہے ؟ اوراگر اس کے اوپر کوئی چادر بچھائی گئی ہو تو پھر کیا حکم ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

ناپا ک بستر پر تلاوت کر نا خلاف ادب ہے البتہ اگر اس پر کوئی پاک کپڑا بچھا لیا جا ئے تو پھر کو ئی حرج نہیں ۔

لمافی الموسو عة الفقہية:(13/252،علوم اسلاميه)
” وتسن القراءۃ فی مکان نظیف وافضلہ المسجد ،وکرہ قوم القراءۃ فی الحمام والطریق.
وفی المحیط البرھانی : (7 / 508،داراحیاءالتراث العربی )
ورأيت في «فوائد الفقيه أبي جعفر» : أن قراءة القرآن في الحمام، أو في المغتسل، أو في موضع ينصب فيه الماء الذي غسل به النجاسة مكروه؛ سواء كان خفية أو جهراً؛ لأن هذا يؤدي إلى الاستخفاف بالقرآن؛ أما إذا قرأ القرآن خارج الحمام في موضع ليس فيه غسالة الناس؛ نحو مجلس صاحب الحمام أو الثيابي فقد اختلف علماؤنا فيه قال أبو حنيفة: لا يكره ذلك، وقال محمد: يكره، وليس عن أبي يوسف رواية (82ب2) منصوصة.
وکذافی الھندیہ : ( 5/ 316،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (1 / 736، رشیدیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علي الدر المختار: ( / ، )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (1 / 176 ،الطارق )
وکذافی حاشية الطحطاوی علي مراقي الفلاح : ( 1/ 150، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتا وی : (1 / 130 ، رشیدیہ)
وکذافی الشامية: (2 /194، ایچ ایم سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/ 1101،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:14

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔