الجواب حامداًومصلیاً
اگر ” کاغذہے“کا لفظ واقعتاًاس علاقے میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے ،تو اگر شوہرنے طلاق کی نیت سے یہ لفظ بولا تھا یا طلاق کی بات چیت کے دوران اور غصہ کی حالت میں بولا تھاتو ایک طلاق بائن ہوئی ہے ،ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
لما فی ردالمحتارعلی الدر المختار:(4/516،رشیدیة)
الکنایات (لاتطلق بھا)قضاء(إلا بنیۃأودلالۃ الحال )وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وفی فتح القدیر:(4/54،رشیدیة)
الکنایات (لا تطلق بھا)قضاء (إلا بنیۃ أو دلالۃ الحال )لأنہا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ وغیرہ فلا بد من التعیین أو بدلالۃ الحال
وفی المجمع الأنھر:(2/34،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/167،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیة:(4/457،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/374،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(3/519،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/427،داراحیاتراث)
وکذافی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(9/6900،رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:151