الجواب حامداًومصلیاً
نفع کی کوئی حد تو شریعت نے متعین نہیں کی ،البتہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اور جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچتے ہوئےمناسب نفع لینا چاہیے جو خریداروں پر ظلم نہ بنے۔
لمافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیة)
عن أنس قال غلاالسعر علی عہد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فقالوا یا رسول اللہ سعّرلنا فقال ان اللہ ھوالمسعر القا بض الباسط الرزاق وانی لارجو ان القی ربی ولیس احد منکم یطلبنی بمظلمۃ فی دم ولا مال
وفی الصحیح لمسلم:(2/15،رحمانیة)
عن جابر قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لایبیع حاضر لباد دعوالناس یرزق اللہ بعضہم من بعض غیر ان فی روایۃ یحیٰ یرزق
وفی الفقہ الاسلامی وادلته:(5/3307،رشیدیة)
أن الغبن الفاحش فی الد نیا ممنوع باجماع الشرائع ،أذ ھو من باب الخداع المحّرم شرعاًفی کل ملۃ،لکن الیسرمنہ الذی لا یمکن الاحتراز عنہ لأحد امر جائز،أذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع أبداً،لأنہ لا یخلو منہ بیع عادۃ ۔فأن کان الغبن کثیراًأمکن الأحتراز منہ،فوجب ردالبیع بہ ۔وقدر علماء المالکیۃ الغبن الکثیر بالثلث فأکثر؛لأنہ المشروع فی الوصیۃ وغیرہا ،فیکون الربح الطیب المبارک فیہ ما کان بقدر الثلث فأکثر
وفی الھدایة:(4/474،رحمانیة)
ولا ینبغی للسلطان ان یسعر علی الناس لقولہ علہ السلام لا تسعروفان اللہ ھو المسعر القابض الباسط الرازق ولان الثمن حق العاقد فالیہ تقدیرہ فلاینبغی للامام ان یتعرض لحقہ الا اذا تعلق بہ دفع ضررالعامہ
کذافی الفتاوی الھندیة:(3/161،رشیدیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1201،معارف القرآن)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/152،موسسة التاریخ)
وکذافی سنن إبی داؤد:(2/132،رحمانیة)
وکذافی سنن إبن ماجة:(276،رحمانیة)
وکذافی مجمع الزوائد:(4/124،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزة)
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:(5/568،دارالکتب العلمیة)
وکذافی البحر المحیط:(3/241،دارالکتب العلمیة)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:86