سوال

ایک آدمی نے غسل کیااور جلدی کی وجہ سے اس کے جسم کا کچھ حصہ خشک رہ گیانمازپڑھنے کے بعد اس نے دیکھاتو اسے علم ہوا،اب وہ دوبارہ غسل کرکے نماز کا اعادہ کرے یا اسی خشک جگہ کو تر کرلے اور نماز کا اعادہ کرلے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اسی خشک جگہ کو تر کرکےنماز کا اعادہ کرلے،دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی کتاب الاصل:(1/59،عالم الکتب)
قلت:ارائیت رجلاجنبااغتسل فبقی من جسدہ قدرموضع اللدرھم لم یصبہ الماءثم صلی رکعۃ او رکعتین ثم ضحک؟قال:علیہ ان یغسل ذلک المکان الذی لم یصبہ الماءویستقبل الصلوۃولا یعید الوضوء
وفی سنن ابن ماجہ:(150،رحمانیة)
عن علی رضی اللہ عنہ قل جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال انی اغتسلت من الجنابۃ وصلیت الفجر ثم اصبحت فرایت قدر موضع الظفر لم یصبہ الماءفقال رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت مسحت علیہ بیدک اجزاک
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/523،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/142،رشیدیة)
وفی البحر الرائق:(1/86،رشیدیة)
وفی التاتارخانیة:(1/272،فاروقیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/13،رشیدیة)
وفی خلاصة الفتاوی:(1/14،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی :(1/101،الطارق)
وفی المحیط البرھانی:(1/226،داراحیاتراث)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1443/2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:157

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔