سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے تمہیں فارغ کردیا ہے تواس کی بیوی کے بھائی نے کہا کیا میں اسے لے جاؤ ں؟ تو اس کے خاوند نے دو ،تین دفعہ کہا کہ لے جاؤ میں نے اس فارغ کردیاتو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں خاوند نے اپنے نسبتی بھائی کے جواب میں یہ جو کہا کہ”اسے لے جاؤمیں نے اسے فارغ کردیا ہے” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے یہ جملہ”میں نے تجھے فارغ کردیا”طلاق کی نیت سے بولا ہے،لہذا اس کی بیوی کوایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی ہے۔اب باہمی رضامندی سے نئے سرے سے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(5/427،داراحیاءتراث)
 اذا قال لھا انت خلیۃ او قال بریۃ اوقال بتۃ اوقال بائنۃ،وقال:لم انو بہ الطلاق،فالاصل فی جمیع الفاظ الکنایات ان لایقع الطلاق بھا الا بالنیۃ
وفی رد المحتار علی الدر المختار:(4/516،رشیدیہ)
 الکنایات(لاتطلق بھا)قضاء(الابالنیۃاودلالۃ الحال)…(فنحو اخرجی واذھبی وقومی)…(یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃحرام بائن)وامرادفھاکبتہ بتلۃ
وکذافی کتاب البسوط:(6/72،دارالمعرفة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/457،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/170،الطارق)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(2/167،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6900،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع الدرایة:(2/101،البشریٰ)
وکذافی شرح ملتقی الابحر:(2/25،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1443/2022/1/31
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:137

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔