سوال

ایک آدمی نے تشہد میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی “ایاک نعبد” پر پہنچا تو یاد آیا کہ میں تو حالت تشہد میں ہوں پھر اس نے “اشھد ان محمدا “سے آخر تک پڑھا، التحیات کا پہلا حصہ چھوڑ دیا اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر اس آ دمی نے سجدہ سہو کر لیا تھا تو اس کی نماز درست ہو گئی ورنہ دوبارہ پڑھے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(2/197،دار المعرفہ)
(والتشھدان )ویسجد للسہو بترک بعضہ ککلہ، وکذا فی کل قعدۃفی الاصح۔ قال فی الشامیۃ قال فی البحر :من باب سجود السہو فانہ یجب سجود السہو بترکہ ولو قلیلا فی ظاھر الروایۃ،لانہ ذکر واحدمنظوم ،فترک بعضہ کترک کلہ اھ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
“ولو ترک التشہد او بعضہ——- فعلیہ سجود السہو “
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/177،رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/127،رشیدیۃ)
وکذا الفتاوی التاتار خانیۃ:(2/132،فاروقیۃ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط :(1/220،دار المعرفۃ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/130 ،المنار )
وکذا فی فتح القدیر :(1/520،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق :(1/524،رشیدیۃ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/193،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26 /5/1440،2019 /02/ 02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :134

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔