سوال

ایک آدمی نے عشاء کی دو سنتوں کی نیت کی اور تشہد پڑھ کر کھڑا ہو گیا اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟کہ واپس لوٹے یا چار مکمل کرے ،سجدہ سہو ایک صورت میں ہو گا یا دونوں صورتوں میں تفصیل مطلوب ہے ۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ کے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہیں جو بحکم فرض ہوتی ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ نمازی سہواتیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اہے لہذا اس شخص کے لیے بہتر یہ تھا کہ تیسری رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے قعدہ کی طرف لوٹ آتا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیتا ،لیکن اگر اس نے نماز جاری رکھی اور چار رکعت مکمل کرلیں تو بھی آخر میں سجدہ سہو لازم تھا، دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہو گی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/126،رشیدیۃ)
“وحکم السہو فی الفرض والنفل سواء.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 1/282،الطارق)
وان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا ،بعد ان قعد القعود الاخیر ،عاد للجلوس عند ما یتذکر ،مالم یسجد للرکعۃ الزائدۃ ،فان سجد لھا لم یبطل فرضہ ، لوجود الجلوس الاخیر ،ویضم للزائدۃ رکعۃ اخری ان شاء لتصیر الزائدتان لہ نافلۃ ،ویسجد للسہو فی الصورتین لتاخیر السلام فی الصورۃ الاولی ،ولترکہ فی الثانیۃ.
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:) 2/297،فاروقیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 1/174،امدادیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 2/308،دار احیاء)
وکذافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(1/664،دارالمعرفۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16

جلد نمبر:18 فتوی نمبر :149

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔