سوال

ایک شخص نے ایک مولانا صاحب کو دس مرلے جگہ دی اس میں(4) چار مرلے اس کے گھر کےلیے اور(6) چھ مرلے مسجد کے لیے تھی اور جگہ مولانا صاحب کے نام کرادی۔ عرصہ پچیس سال گزرگئے لیکن وہ وہاں مسجد تعمیر نہ کر سکے اب وہاں بالکل قریب دوسری مسجد بن چکی ہے ،اس جگہ پر مزید مسجد کی ضرورت نہیں ہے ۔مولانا صاحب اس جگہ کو اپنے پاس رکھ لیں اور اس کی قیمت دوسری مسجد یا مدرسہ میں لگا دیں تو کیسا ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

چند سمجھدار، دین دار افراد کواعتماد میں لے کر مذکورہ جگہ کو بیچ دیا جائے اور جہاں ضرور ت ہو وہاں جگہ خرید لی جائے،اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاصل شدہ قیمت کو کسی قریبی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے ۔

لمافی الفتاوی الھندیۃ:(2 401/،رشیدیۃ)
“وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوزللقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 2/372،الطارق)
الاصل ان استبدال الوقف بغیرہ لا یجوز ۔۔۔۔۔لکن العلماء افتو ا بجوازہ لما فی من المصلحۃ بشروط : ان یخر ج الوقف عن الانتفاع بالکلیۃ ۔۔۔۔۔۔وان یستبدل بعقار لا بدراھم ودنانیر کی لا یاکلھا النظار المشرفون علی الوقف.”
وکذافی بدائع الصنائع:( 5/328، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 5/345،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/592،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/7675 ،رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 3/330،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:8/156(،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلد نمبر :19فتوی نمبر:28

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔