سوال

ایک آدمی نے پندرہ سال پہلے زمین خریدی جس کی قیمت بیس ہزار تھی،بعد میں کوئی دعوی کرتا ہےکہ یہ میری ہےاور بیچنے والا بیس ہزار دینے کو تیار ہےلیکن خریدنے والا کہتا ہےکہ مجھے موجودہ قیمت دو،جوکہ تین لاکھ ہے،سوال یہ ہے کہ اب کونسی قیمت دی جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں جس قیمت پر زمین کو بیچا تھاوہی قیمت یعنی بیس ہزار روپے دینا لازم ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5 /3380  ،رشیدیہ )
واتفقوا علی انہ لو لم تکسد الفلوس ولکنھا رخصت قیمتھا او غلت لا ینفسخ البیع لان الرخص او الغلا
لا یوجب بطلان الثمنیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقال ابو یوسف تعتبر قیمتھا وقت العقد
وفی فتاوی التاتارخانیة: (13 /86  ،فاروقیہ )
رجل اشتری من آخر جاریۃ وقبضھا ثم جاء المستحق واستحقھا من المشتری وقضی القاضی بذلک فھذہ المسئلۃ علی ثلاثۃ اوجہ: الاول ان یستحقھا ببینۃ وفی ھذاالوجہ رجع المشتری بالثمن علی البائع
وکذافی الشامیة : ( 4/ 533 ،سعید )
وکذا فی المحیط البرھانی : (9 /270  ،دار احیاء تراث العربی )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 6/4396  ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی قاضیخان: ( 4/510  ،رشیدیہ )
 وکذافی اعلاء السنن : ( 14/396  ،ادارة القرآن )
وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 4/ 26 ،طارق )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2023/04/10/19/9/1444

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :46

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔