سوال

ایک آدمی نے کسی سے کچھ رقم قرض لی، اب وہ رقم کو واپس کرتے وقت کچھ رقم اضافی بھی دیتا ہے، جبکہ قرض دینے والے نے پہلے سے اضافی رقم کی شرط نہیں لگائی تھی، پوچھنا یہ ہے کہ واپسی کے وقت بغیرمطالبے کے اضافی رقم لینا یہ سود شمار ہو گا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر پہلے سے کوئی شرط بھی نہ لگائی ہو اور مطالبہ یا معمول بھی نہ ہو تو باہمی رضا مندی سے اضافی رقم لینا جائز ہے، سود نہیں۔

لمافی بدائع الصنائع:(6/519،رشیدیہ)
فاما اذا کانت غیر مشروطۃ فیہ ولکن المستقرض اعطاہ اجودھما فلا بأس بذلک لان الربا اسم لزیادہ مشروطۃ فی العقد ولم توجد بل ھذا من باب حسن القضاء وانہ امر مندوب الیہ
وفی المحہط البرھانی:(10/351،ادارة القران)
ان ابا حنیفۃ کان یکرہ کل قرض جر منفعۃ، قال الکرخی ھذا اذا کانت المنفعۃ مشروطۃ فی العقد بان اقرض غلۃ لیرد غلتہ صحاحا، او ماأشبہ ذلک، فان لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فی العقد فاعطاہ المستقرض اجود مما علیہ فلا بأس بہ
وکذافی صحیح البخاری:(1/422،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/388،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط:(14/35،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(299،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الکتاب المصنف:(4/473،دار الکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:4

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔