سوال

ایک آدمی کی منگنی ہوئی، اس کی منگیتر نے اس(لڑکے ) کے دوست کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا کہ آپ میرا نکاح میرے منگیتر سے کر دیں، اس وکیل نے دو گواہوں کی موجودگی میں ان کا نکاح کر دیا، لیکن اس نکاح کا لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کو پتا نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خفیہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟ اگر نکاح صحیح ہوا تو اب یہ لڑکا اس لڑکی کو خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینا چاہے تو کون سی ایسی طلاق دے جس سے وہ لڑکی بائنہ ہو جائے اور اگر دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کی بھی گنجائش رہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ لڑکا ، لڑکی کا کفوء(مالداری، دینداری اور پیشے وغیرہ میں برابر ) نہیں ہے پھر تو یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ اور اگر کفوء ہے تو پھر یہ نکاح تو ہو گیا ہے لیکن اس طرح کا خفیہ معاملہ بہت نا مناسب حرکت ہے، خاص طور پر معزز گھرانوں کے لیے بہت عار کا سبب ہے۔ شریف لوگوں کو ایسی حرکت کسی صورت زیبا نہیں۔

نکاح منعقد ہونے کی صورت میں یہ لڑکا اسے طلاق کی نیت سے ان میں سے کو ئی جملہ ایک مرتبہ کہہ دے، “میں تمہیں چھوڑتا ہوں” یا”تم مجھ سے فارغ ہو ” یا “تمہیں آزاد کرتا ہوں” تو طلاق بائنہ ہو جائے گی اور دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش رہے گی۔

لما فی فتح القدیر: (3 /246 ،رشیدیہ )
 ورواية الحسن عنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى لما ذكر أن كم من واقع لا يرفع وليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 140 ،رشیدیہ )
أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه۔۔۔ والأصل فيه ما روي عن إبراهيم النخعي – رحمه الله – أنه قال كان أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يستحسنون أن لا يطلقوا للسنة إلا واحدة ثم لا يطلقوا غير ذلك حتى تنقضي العدة
وفی النھر الفائق: (2 /202 ،قدیمی )
(نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) سواء تزوجت نفسها من كفؤ أو لا في ظاهر الرواية عن الإمام وصاحبيه، لأنها تصرفت في غالب حقها فصار كما إذا تصرفت في مالها وروى الحسن عن الإمام أنه إن كان كفؤًا نفذ وإلا لا وهو المختار في زماننا.
وکذافی الفتاوی الھندیہ: (1 /287 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (3 /56،55 ،دارالمعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (29 /28 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 /6962 ،رشیدیہ )
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار: (2 /112 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11-08-1440، 2019-04-17
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :29

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔