الجواب حامداً ومصلیاً
کافروں سے ان کے کفر پر ہوتے ہوئے نہ تو دلی محبت و الفت ہونا چاہیے اور نہ ہی آدمی کے افعال ومعاملات سے ان کافروں کے ساتھ بغض و عداوت ظاہرہونا چاہیے بلکہ دل میں اس لیے رحم ہونا چاہیے کہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے ، یہ جہنم کی آگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اس وجہ سے ان کے ساتھ معاملات کو نرم رکھنا چاہیے، اس سلسلہ کی بہترین تقریر و تحریر حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ “معارف القرآن” میں فرماتے ہیں:
”دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودّت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔۔۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔۔۔چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔
(معارف القرآن : 2/51،50 ، ادارۃ المعارف،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :31