سوال

ایک آ د می نے کہا کہ میں اپنی آمد نی کا بیس فیصد حصہ غر یبو ں پر خر چ کر و ں گا ، اس کے وا لد کے ما لی حالا ت بہت کمز ور ہیں ۔ ا ب کیا یہ بیس فیصد اپنے وا لد پر خرچ کر سکتا ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نفلی صد قہ دے سکتا ہے اور اس سے دہر ا اجر ملے گا وا جبی صد قہ مثلا زکوٰۃ وغیرہ نہیں دے سکتا ۔

لما فی بد ائع الصنا ئع:(2/162،رشید یة)
وأما صد قۃ التطو ع فیجوز د فعھا الی ھؤ لاء وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصد قۃ و أجر الصلۃ
وفی الفقہ الا سلا می و ادلتہ :(3/1970،رشید یة)
اما صد قا ت التطو ع: فیجو زد فعھا ا لا صو ل و الفر وع و الز و جا ت و الا ز واج ، وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصدقۃ و أجر الصلۃ
وکذافی الشا میة:(2/349،سعید )
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/426،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/242،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(2/425،رشید یة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/462،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:45

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔