سوال

کیا چھو ٹے بچو ں کی نماز کا لعد م ہو تی ہے چھو ٹے نابالغ بچے اگر نماز پڑھ رہے ہو ں کیا ان کے آگے سے گزرسکتے ہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

چھوٹے بچو ں کی نماز معتبر ہے اگر چہ فرض نہیں لہذا نماز کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے آگے نہ گز راجا ئے۔

لما فی التجرید :(2/859،محمو د یة)
احتجوا :بما روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قا ل (مر وا صبیا نکم با لصلا ۃ لسبع ،واضربوا ھم علیھا لعشر ، وفر قوا بینھم فی المضاجع )فد ل علی ان صلا تہ صحیحۃ ، و الا لکان لا یؤ مر بھاولا یضرب علی تر کھا
وفی الاشباہ والنظا ئر :(3/22،ادار ة القر آن )
و تصح عبا دا تہ و ان لم تجب علیہ
وفی حا شیة الطحطا وی :(305،قد یمی )
لأن النبی صلی اللہ علیہ و سلم شرع فی صلا تہ منفر دا ، ثم ا ئتم بہ ابن عبا س ، و أن صلاۃ الصبی صحیحۃ
وکذافی المو سو عة الفقھیة:(27/26،علوم اسلا میة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/251،قد یمی)
وکذا فی مشکوٰة المصا بیح:(1/59،رحما نیة)
وکذا فی فتح القد یر :(1/369،رشید یة)
وکذا فی جامع التر مزی :(1/186،رحما نیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:169

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔