الجواب حامداً ومصلیاً
سوال سےمعلوم ہو تا ہے کہ بڑ ھیا کو رکو ع ،سجد ے اور رکعا ت کی تعد اد میں تر د د اور شک ہو جا تا ہے اگر صو رت حال ایسی ہی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ یہ بڑ ھیا ایک اور دو یا دو اور تین میں شک کی صو رت میں اسے کم پر محمو ل کر کے آخر میں سجد ہ سہو کر لے مثلا اسے یہ شک ہو ا کہ میں نے دو رکعت پڑ ھی ہے یا تین تو و ہ خا تو ن اسے دو فرض کر ے اسی طرح سجد وں میں اگر شک ہو کہ ایک سجد ہ کیا یا دو تو وہ ایک سجد ہ سمجھتے ہو ئے ایک اور سا تھ ملالے اور آ خر میں سجد ہ سہو کر لے لیکن اگر نسیا ن کا اس قد ر غلبہ ہے کہ ضبط رکعا ت پر اور رکوع وسجو د میں تمییز پر با لکل قا در نہیں تو نما زذ مہ سے سا قط ہے ، اور اس مر ض کی و جہ سے رہ جا نے و الی نما زو ں کا فد یہ بھی لا ز م نہیں ہو گا۔
لما فی الد ر المختا ر مع الرد:(2/688،رشید یة)
و لواشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی) قا ل ابن عا بد ین تحت (ولو اشتبہ علی مریض الخ) ای: بأ ن وصل الی حا ل لا یمکنہ ضبط ذ لک ، ولیس المر ا د مجر د الشک و الا شتبا ہ ؟ لأ ن ذ لک یحصل للصحیح
وفی البحر الر ائق :(2/205،رشید یة)
و لو کا ن یشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی، و لو ادا ھابتلقین غیر ہ ینبغی أ ن یجز ئہ
وکذافی النھر الفا ئق :(1/334،قد یمی )
وکذا فی الھند یة :(1/137،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/423،الحقا نیة)
وکذا فی الخا نیة :(1/172،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/196،رشید یة)
وکذا فی البزا ز یة :(4/70،رشید یة)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/2021/3/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:46