الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں اگربیوی نے وہ مکان بطورِملکیت خاوند کے نام کرایااور خاوند نے قبضہ بھی کر لیا تو یہ خاوند کی ملکیت شمار ہو گا،لہذا اسمیں وراثت بھی جاری ہو گی اور اگر یہ آدھا مکان مرحوم کی کل مال کی تہائی کے برابر ہے تو اس میں وصیت کو بھی پورا کیا جائے گااور اگر یہ آدھا مکان کل مال کی تہائی سے زیادہ ہوتو کل مال کی صرف تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔البتہ اگر بیوی نے مکان شوہرکے صرف نام کرایا تھااس کو مالک بنانا مقصود نہیں تھااور بیوی کا ہی قبضہ شمار کیا جاتاتھا تو یہ مکان بیوی کا ہی ہو گا اور یہ مکان خاوند کے ترکہ میں شمارنہیں کیا جائے گا۔
لما فی شرح المجلة : (1 / 138 ،رشیدیہ )
التبرع لا یتم الا بالقبض فاذا وھب لآخر شیئاً لاتتم الھبۃ الا بالقبض
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ(10 /7733 ،رشیدیہ )
تنفذ الوصایا من ثلث المال الباقی لا من ثلث أصل المال بعد أداءالحقوق المتقدمۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وتقدم الوصیۃ علی الارث،سوآء أکانت مطلقۃ کان تکون بجزءٍشائع من الترکۃ کالثلث أو الربع،أم معینۃوھی ما تکون بشیئ من الترکۃکدار معلومۃ أو نقود مقدرۃ
وکذافی شرح المجلة : (3 /344 ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار ورد المحتار : (12 /551 ،رشیدیہ )
وکذافی فتاوی التاتارخانیہ : ( 14/412 ،فاروقیہ )
وکذا فی البحر الرائق : (9 /366 ، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (2 /246 ،طارق )
وکذا فی الھندیة: ( 4/374 ، رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/29/5/6/1444
جلد نمبر : 28 فتوی نمبر : 169