سوال

ایک دوکاندار کے پاس ایک گاہک آیا،اس کا مطلوبہ سامان دوکاندار کے پاس نہیں تھا۔دوکاندار نے گاہک سے پیسے لے لیے اور کہا کہ تم فلاں دوکاندار کے پاس سےیہ سامان لے لومیں اس کو فون کر دیتا ہوں۔پھر اس دوکاندار نے کچھ نفع خود رکھا اور کچھ نفع دوسرے دوکاندار کو دے دیا۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں اور پہلے دوکاندار نے جو نفع لیا ہے،وہ بھی جائز نہیں ہے۔لہٰذا اس پر ضروری ہے کہ اگر گاہک معلوم ہو تو وہ نفع اسے واپس کرے ،ورنہ اس نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/286،قدیمی کراچی)
عن)ابن عبّاس یقول امّا الّذی نہی عنہ النّبیّ صلّی اللّہ علیہ وسلّم فھو الطّعام ان یّباع حتّی یقبض قال ابن عبّاس ولا احسب کلّ شیءٍ الّا مثلہ
وفی المبسوط للسّرخسی:(14/8،دار المعرفة بیروت)
ومن اشتریٰ شیئاً فلا یجوز لہ ان یّبیعہ قبل ان یّقبضہ ولا یولّیہ احداً ولا یشرک فیہ
وفی شرح المجلّة:(2/88،رشیدیة کوئٹه)
وبقی ایضاً مّن الشّروط الستّۃ الشّرط الخامس،وھو کون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ،فیبطل بیع ما لیس مملوکا لہ اذا باعہ لنفسہ وان ملکہٗ بعدہٗ
وکذافی الھندیة:(3/13،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی شرح المجلّة:(2/173.174،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/351،دار العلوم کراچی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامد یة:(1/417،قدیمی کراچی)
وکذافی الشّامیة:(5/58.59.99،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/227،دار احیاء تراث العربی بیروت)
وکذافی بدائع الصّنائع:(4/322.340.341.394،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فقه البیوع:(1/333.334.392.393.396.397،معارف القرآن کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:30

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔