سوال

ایک عورت اور اس کے اولیاء مل کر ایک شخص پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اُس نے اِس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے،مگر وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے ایسی کسی بات کا علم بھی نہیں ہےاور یہ محض الزام ہے۔مدعیان کے پاس اپنے دعویٰ پر گواہ بھی نہیں ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں چونکہ زنا کی تہمت لگانے والوں کے پاس چار نیک عینی گواہ نہیں ہیں اس لیے زنا ثابت نہ ہو گا،بلکہ یہ تہمت لگانے والے سخت گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں،ان کو چاہیے کہ فوراً اس شخص سے بھی معافی مانگیں اور خوب توبہ و استغفار بھی کریں۔

لما فی القرآن الکریم:(النور:4)
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً……الآیۃ
وفی مقام آخر:(النساء:110.112)
 وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا…….وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا
وفی الھدایة:(2/507،رشیدیه کوئٹہ)
وإذا قذف الرجل رجلا محصنا أو امرأة محصنة بصريح الزنا وطالب المقدوف بالحد حده الحاكم ثمانين سوطا إن كان حرا
وفی الھندیة:(2/167، رشیدیه کوئٹہ)
والتعزير الذي يجب حقا للعبد بالقذف ونحوه فإنه لتوقفه على الدعوى لا يقيمه إلا الحاكم
وکذافی المشکوة:(2/436، رحمانیة لاھور)
وکذافی جامع الترمذی:(1/381،رحمانیة لاھور)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/524، رشیدیه کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(6/549، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی التنویر مع شرحه:(4/7.8،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی شرح النووی علی صحیح المسلم:(2/357، رحمانیة لاھور)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:111

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔