سوال

ایک شخص اپنی بیوی کے موبائل پر غیرمحرم کے ساتھ نازیبا پیغامات کا رابطہ دیکھ کر اپناہوش برقرار نہ رکھ سکا اور جیسے ہی پیغامات پڑھے فورا بغیر کسی واقعہ کے انتہائی غصہ کی حالت میں ، یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس بھی برقرار نہ رکھ سکا ، اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : میں تجھے طلاق دیتاہوں ، طلاق،طلاق، طلاق۔ یہاں تک کہ بیوی نے اسے بتایا کہ تم نے مجھے انتہائی غصہ کی حالت میں کیا کہہ دیا ؟ چنانچہ بیوی کے بتانے پر اسے پچھتاوا اور احساس ہوا ۔ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل کی بیان کردہ غصہ کی کیفیت ایسی نہیں کہ اسے پاگل پن یا جنون کہا جائے۔ لہذا صورت مسئولہ میں، تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت غلیظہ ثابت ہوچکی ہے ۔ اب یہ عورت اس کے لیے بغیر حلالہ شرعی کے حلال نہیں ہوسکتی۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة البقرة/آیة،230،229)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان…… فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
وفی التنویر مع الدر:(3/232،سعید)
والبدعی ثلاث متفرقۃ او ثنتان بمرۃ او مرتین فی طھر واحد
وقال فی الشامیة تحتہ:(3/232،سعید)
قولہ ثلاثۃ متفرقۃ) وکذا بکلمۃ واحدۃ بالاولیٰ….. وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلاث
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(1/302،بشری)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)
وکذافی المختصر للقدوری:(1/170،الخلیل)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/3/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:199

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔