الجواب حامداً ومصلیاً
سائل کی بیان کردہ غصہ کی کیفیت ایسی نہیں کہ اسے پاگل پن یا جنون کہا جائے۔ لہذا صورت مسئولہ میں، تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت غلیظہ ثابت ہوچکی ہے ۔ اب یہ عورت اس کے لیے بغیر حلالہ شرعی کے حلال نہیں ہوسکتی۔
لما فی القرآن الکریم:(سورة البقرة/آیة،230،229)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان…… فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
وفی التنویر مع الدر:(3/232،سعید)
والبدعی ثلاث متفرقۃ او ثنتان بمرۃ او مرتین فی طھر واحد
وقال فی الشامیة تحتہ:(3/232،سعید)
قولہ ثلاثۃ متفرقۃ) وکذا بکلمۃ واحدۃ بالاولیٰ….. وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلاث
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(1/302،بشری)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)
وکذافی المختصر للقدوری:(1/170،الخلیل)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/3/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:199