سوال

ایک شخص ایک عرصے تک مغرب کی نمازمیں تیسری رکعت میں فاتحہ کےساتھ سورۃ ملاتا رہا ،یہ سمجھ کرکہ تیسری رکعت میں بھی سورۃ ملائی جاتی ہے اور کئی بار اس نے جماعت بھی کرائی ہے توان نمازوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کی نمازیں تو ہوگئیں ہیں ،لیکن مسنون یہ ہے کہ صرف فاتحہ پڑھے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/310،دار احیاء تراث)
” وا قرا فی الاخیرین من الظہر والعصر الفاتحہ والسورۃ ساھیا… فلا سھو علیہ،ھو المختار. “
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(179،البشریٰ)
” لو قرا سورۃ بعد الفاتحۃ فی احدی الرکعتین الاخیرتین للفرض او فی کلتیھما :لا یلزمہ سجود السھو. “
وکذافی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/126،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/127،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،الحقانیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(460،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(88،دارالعلوم زکریا)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(1/200،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:189

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔