الجواب حامدا ومصلیا
اگرکوئی شخص زکوۃاداکرنےسےپہلےوفات پاگیاتواگراس نےوصیت کی ہوتواس کےتہائی ترکہ میں سےزکوۃاداکی جائےگی اوراگرکئی سالوں کی زکوۃادانہ کی ہواورزکوۃکی رقم تہائی مال سےزائدہوتواگرتمام ورثہ بالغ ہواوروہ بخوشی اجازت دیدیں توتمام مال سےبھی زکوۃ اداکی جاسکتی ہےاوراگروصیت نہیں کی توپھرترکہ سےزکوۃنہیں ادا کی جائے گی۔
لمافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(325،بشری)
رجل وجبت علیہ الزکاۃومات قبل ادائھا:لاتؤخذالزکاۃمن ترکتہ،الااذااوصی بہ:فتؤخذمن ثلث مالہ،وان کان الثلث اقل من القدرالواجب فان اجازالورثۃاکثرمن الثلث:یؤخذ،وان لم یجیزوا:لاتؤخذاکثرمن الثلث
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/256،رشیدیة)
من مات علیہ الزکاۃتسقط الزکاۃولاتصیردینا فی الترکۃالاانہ لواوصی باداءالزکاۃیجب تنفیذہ الوصیۃ من ثلث مالہ
وکذافی الھندیة:(1/176،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/240،فاروقیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/240،ادارۃالقرآن)
وکذافی البحرالرائق:(2/369،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/168،رشیدیة)
وکذافی التنویرمع الدر:(3/265،رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12-08-1443/2022-03-16
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:17