سوال

ایک شخص فوت ہوااوراس کی بیوی بھی فوت ہوچکی ہے،اس کی اولادمیں سےایک بیٹی بھی فوت ہوگئی ہے،جبکہ اس کی پانچ بیٹیاں اوردوبیٹےحیات ہیں جب اس کی جائیدادتقسیم ہوگی توکیااس کی جوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادکوحصہ ملےگایانہیں اورجوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادمیں ایک بیٹافوت ہوگیاہےکیااس بیٹےکی اولادکوحصہ ملےگا؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگربیٹی والدسےپہلےفوت ہوگئی ہےتواس کواپنےوالدکی جائیدادسےاوراس کی اولادکواپنےناناکی جائیدادسےحصہ نہیں ملے گا،اگربعدمیں فوت ہوئی ہےتووالدکی جائیدادمیں سےبیٹی کوحصہ ملےگااورپھربیٹی کی جائیدادسےاس کی اولادکوحصہ ملےگا۔

لمافی الفقہ السلامی :(10/7707،رشیدیہ)
یشترط لثبوت الحق فی المیراث ثلاثۃ شروط:وھی موت المورث،وحیاۃالوارث،ومعرفۃجہۃالقرابۃ}وفی صفحۃ الآتیۃ {حیاۃ الوارث:لابدایضامن تحقق حیاۃ الوارث بعدموت المورث،اماحیاۃ حقیقیۃمستقرۃ اوالحاقہ بالاحیاءتقدیراً
وکذافی ردالمحتار:(10/525،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(8،شرکت علمیة)
وکذافی الہندیة:(6/458،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(6/448 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی؛23/288،ادارةالقرآن)
وکذافی التاتارخانیة:( 20/317،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:112

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔