سوال

ایک شخص قسم کھا کر کہتا ہے کہ فلاں کھانے کی فلاں چیز میرے اوپر حرام ہے ۔ کیا واقعی یہ چیزیں اس پر حرام ہوجائیں گی یا کوئی اور حکم ہے ؟ اگر کھائے گا تو کفارہ دے گا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

حلال چیز کواپنے اوپر حرام کرنا قسم ہے ، اس لیے صورت مسئولہ میں قسم منعقد ہوگئی ہے ، لیکن یہ چیزیں اس پر حرام نہیں ہونگی، بلکہ اس قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کرے ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالتحریم/آیة،2،1)
یاایھاالنبی لم تحرم مااحل اللہ لک ، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور الرحیم ، قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم
وفی الھندیة:(2/55،رشیدیہ)
تحریم المال یمین کذا فی الخلاصۃ فمن حرم علی نفسہ شیئا ممایملکہ لم یصر محرما ثم اذافعل مما حرمہ قلیلا او کثیرا حنث و وجبت الکفارۃ
وفی التنویرمع الدر:(5/529،سعید)
ومن حرم) ای علی نفسہ……(شیئا)…..(ثم فعلہ)…..باکلہ( کفر) لیمینہ، لما تقرر ان تحریم الحلال یمین
وکذافی المختصرفی فقہ الحنفی:(1/332،بشریٰ)
وکذافی التاتارخانیة:(6/17،فاروقیہ)
وکذافی ردالمحتار:(5/530،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/697،قدیمی)
وکذافی التفسیرالمنیر:(14/694،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:136

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔