الجواب حامداً ومصلیاً
اگر یہ لوگ اپنے علاقےکی جیل میں ہوں یا ان کو کسی طرح یقین ہوجائے کہ ہم نے 15دن یا اس سے زائد رہنا ہے توپوری نماز پڑھیں گے ورنہ قصر کریں گے۔ اور اگر جیل کا مقام ہی معلوم نہ ہو، تو جیل کی انتظامیہ سے معلوم کریں۔ معلوم نہ ہوسکے تو قید سے پہلے والی حالت پر عمل کریں۔
قصر کے بجائے اتمام کرلیا اور ایسا جان بوجھ کر کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ اور اگر بھول کر کیا ، لیکن پہلے قعدہ میں بیٹھا تھا تو نماز ہوگئی اورآخری دو رکعتیں نفل شمار ہوں گی ، سلام میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا، لیکن اگر پہلے قعدہ میں نہیں بیٹھا تھاتو نماز باطل ہوگئی ہے ۔اس کی قضاء کرنا ہوگی۔
لما فی ردالمحتار:(2/134،سعید)
قولہ واسیر) ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وفی غنیة المتملی:(1/541،رشیدیہ)
ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وینبغی ان یکون ھذا اذا تحقق انہ مسافر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیة:(1/170،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/401،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/401،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:155