سوال

عرض ہے میں حلفی بیان دیتاہوں کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ میں نے تین بار یہ کہہ دیا ” میں کل دو بجے تک فیصلہ کردوں گا ” ۔ اس کے بعد تین سال تک میں نے اس معاملہ میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہوا ۔ تین سال بعد اس نے یہ کہا “تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑدیا ہے ” ۔ یہ بات بیوی کے منہ سے سننے کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی ۔ اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میرا تیرا کوئی رشتہ نہیں ہے اس نے مجھے چھوڑدیا ہے ۔ اس بات کی گواہ میری بیوی اور بیٹی ہے ۔ اسلام کے دائرہ میں رہتے ہوئے فیصلہ دیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کے کلام میں چونکہ صرف طلاق کا وعدہ اور دھمکی ہے جس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لیے صورت مسئولہ میں عورت حسب سابق شوہر کے نکاح میں رہیگی اور عورت کا یہ کہنا کہ” تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑ دیا ہے ” لغو ہے ،کیونکہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے نہ کہ عورت کو ۔

لما فی الھندیة:(1/384،رشیدیہ)
فقال الزوج: اطلق “طلاق می کنم” فکررہ ثلاثا، طلقت ثلاثا بخلاف قولہ:ساطلق “طلاق کنم ” لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/300،بشریٰ)
الطلاق یملکہ الرجل ولاتملکہ المراۃ فان طلقت المراۃ زوجھا لایقع الطلاق
وفی الفقہ الاسلامی:(9/6877،رشیدیہ)
جعل الطلاق بید الزوج لابید الزوجۃ ….ان المراۃ غالبااشد تاثرا بالعاطفۃ من الرجل فاذا ملکت التطلیق فربما اوقعت الطلاق لاسباب بسیطۃ لاتستحق ھدم الحیاۃ الزوجیۃ
وکذافی الدرالمختار:(3/319،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/230،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(3/414،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔