سوال

ایک شخص نےپڑوسی کواطلاع کیےبغیرایک سال پہلےدس لاکھ روپےمیں مکان فروخت کیا،اب ایک سال بعدپڑوسی کوعلم ہوااوروہ شفعہ کرتاہے،جبکہ اس مکان کی قیمت پچیس لاکھ روپےہے،توکیاشفیع موجودہ قیمت یعنی پچیس لاکھ کے ساتھ یاایک سال قبل والی قیمت یعنی دس لاکھ روپے میں خریدےگا؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

شفیع اس قیمت پرلےگاجوخریدارنےایک سال پہلےدی تھی یعنی دس لاکھ روپے،نہ کہ موجودہ قیمت پر۔ اگرخریدارنےاس مکان میں کوئی اضافی چیزلگائی ہوتواس کی قیمت لےسکتاہے۔

لمافی شرح المجلة:(1/811،العربیة)
“فالقیمۃ المعتبرۃ فی البدل ھی القیمۃ وقت الشراءولاتعتبر قیمتہ وقت الأخذبالشفعۃ ۔”
وفی الفقہ الاسلامی:(6 /4906،رشیدیہ)
اتفق الفقہاءعلی ان الشفیع یأخذالمبیع بالثمن،اوالعوض الذی ملک بہ اوبمثل الثمن الذی تملک بہ المشتری ۔۔۔۔۔۔۔۔ لأن الشرع اثبت للشفیع ولایۃ التملک علی المشتری بمثل مایملک بہ قدراًوجنساً
وکذافیہ ایضاً:(6/4886،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/231،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(4/131،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/101 ،المنار)
وکذافی الہندیة:(1/160،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(3/226،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(17/62،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:67

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔