سوال

ایک شخص نے دارا لامان سے ایک بچی لی ہے ۔اس کے والدین کے بارے میں کوئی پتا نہیں ہے تو”نادرا”وغیرہ میں بچی کے نام کے ندراج میں یہ شخص والد کی جگہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب بعون القادر الغفار

کسی بچے کو والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا بالکل جائز نہیں ہے ۔البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ بچی کے حقیقی والد کا علم ہی نہیں ہے اور اگر مذکورہ شخص اپنا نام اس بچی کے ساتھ لکھوا دیتا ہے تو اسے سرپرستی اور ایک طرح نسبت حاصل ہو جائے گی اور وہ آئندہ ہمیشہ کے لیے عار سے بچ جائےگی۔لہذا نام وغیرہ کے اندراج کی حد تک اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
لیکن وراثت اور پردے کے معاملے میں یہ لڑکی اجنبی شمار ہوگی ،لہذا اس شخص سے اور اس کے رشتہ داروں سے پردہ کرے گی اور اس کی وراثت کی حق دار بھی نہ ہوگی ۔اگر اس بچی کی عمر 2سال سے کم ہے تو اس شخص کی کوئی محرم خاتون مثلا بیوی ،بہن یا بیٹی اسے اپنا دودھ پلا دے تو ثبوت رضاعت کی وجہ سے پردے کے احکام میں تخفیف ہوجائے گی۔

لما فی سورۃ الاحزاب:(الآیۃ:5،4 )
مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔
و فی البحر الرائق:(5/243،رشیدیہ)
(قوله ويثبت نسبه من واحد) استحسانا لاحتياجه إليه أطلقه فشمل الملتقط وغيره۔۔۔۔۔۔ وجه الاستحسان أنه إقرار للصبي بما ينفعه لأنه يتشرف بالنسب ويعير بعدمه۔
وفی المحیط البرھانی:(8/159،دار احیاء التراث)
إذا ادعى الملتقط نسب اللقيط فالقياس أن لا تصح دعوته۔۔۔۔۔وفي الاستحسان: تصح دعوته؛ لأن هذا إقرار على نفسه من وجه من حيث أنه تلزمه نفقته، ويجب عليه أن يحفظه، ثم إن كان ھذا إقراراً على اللقيط فهو إقرار عليه بما ينفعه من كل وجه، وبالالتقاط ثبت لہ هذه الولاية۔
وکذافی فتح القدیر(6/105، رشیدیہ)
و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /277،الطارق)
وکذ افی البحر الرائق :(3 /388،رشیدیہ)
و کذافی التفسیر المنیر:(11/257،امیر حمزہ)
و کذافی الصحیح للامام مسلم:(2/326،رحمانیہ)
و کذافی فتح الباری:(6/670،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1440
6/1/2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر :109

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔