الجواب حامداً ومصلیاً
کرایہ پر لی گئی دکان آگے کسی کو کرایہ پر دینا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے (1)بلدیہ کی طرف سے اسکی قانوناً اجازت ہو(2) وہی کرایہ متعین کیا جائے جو بلدیہ کی طرف سے طے ہوا ہے،اگر اس سے زیادہ کرایہ مقرر کیا گیا تو اس زائد رقم کو صدقہ کرنا لازم ہو گا۔بلدیہ کے کرائے سے زیادہ کرایہ طے کرنے کے لیے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا ضروری ہے۔(1) کرایہ دار دکان میں کوئی اضافہ کر دے مثلاً تعمیراتی کام یا مرمت یا ڈیکوریشن وغیرہ کروادے(2) کرایہ کسی اور کرنسی مثلاً میں ڈالر میں طے کر لے(اگر ملکی قوانین اسکی اجازت دیتے ہوں) (3) کسی جنس مثلاً گندم یا کپاس وغیرہ کا متعین وزن بطورکرایہ طے کر لے۔
لما فی الفتاوی الھندیة : (4 /425 ،رشیدیہ )
واذا استاجر داراً وقبضھا ثم آجرھا فانہ یجوز ان آجرھا بمثل ما استاجرھا او اقل وان آجرھا باکثر مما استاجرھا فھی جائزۃ ایضاً،الا انہ ان کانت الاجرۃ الثانیۃ من جنس الاجرۃ الاولی فان الزیادۃ لا تطیب لہ، ویتصدق بھاوان کانت من خلاف جنسھا طابت لہ الزیادۃ ولو زاد فی الدار زیادۃ کما لووتدفیھا اتدااوفیھا بئرا او طیناً او اصلح ابوابھا او شیئاً من حوائطھا طابت لہ الزیادۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولہ ان یؤاجرھا من شاء الا الحداد والقصار والطحان وما اشبہ ذلک مما یضر بالبناء ویوھنہ
وفی الفقہ الحنفی (4 /369 ،طارق )
تصح اجارۃ حانوت دکان ودار بلا بیان ما یعمل فی ھذہ الاماکن لصرفہ للمتعارف وھو السکنی وانہ لا یتفاوت وبلا بیان من یسکنھا فلہ ان یسکنھا غیرہ باجارۃ وغیرھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو آجر باکثر تصدق بالفضل الا فی مسئالتین اذا آجرھا بخلاف الجنس او اصلح فیھا شیئاً
وکذافی المحیط البرھانی : (11 / 268 ،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی رد المحتار : ( 6/91 ،سعید )
وکذافی کتاب الفقہ : ( 2/77 ،حقانیہ )
وکذا فی الجوھرة النیرة: ( 1/578 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الموسوعة الفقھیة: (1 /268 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 15/51 ،فاروقیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/1/9/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر : 144