سوال

کیا نابالغ کی زمین کی پیدوار پرعشرواجب ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں،نابالغ کی زمین کی پیداوار پر عشر واجب ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/ 173 ،رشیدیہ )
 وأماالعقل والبلوغ فلیسامن شرائط أھلیۃوجوب العشرحتی یجب العشرفی أرض الصبی والمجنون لعموم قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم”ماسقتہ السماءففیہ العشروماسقی بغرب أودالیۃففیہ نصف العشر
وفی فتاوی الھندیة: (1 /185  ،رشیدیہ )
وأماالعقل والبلوغ فلیسامن شرائط الوجوب حتی یجب العشرفی أرض الصبی والمجنون لان فیہ معنی المؤنتہ
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /279  ،داراحیاءتراث العربی )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیة: (3 /281  ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الا سلامی وأدلتہ: (3 / 1881 ،رشیدیہ )
وکذا فی ردالمحتار: ( 3/ 281، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرئق: ( 2/  413، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الا سلامی وأدلتہ: ( 3/1885  ، رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ: (1 /522  ،حقانیہ )
وکذا فی المبسوط: ( 3/50  ،دارالمعرفتہ )

 واللہ اعلم بالصواب

محمدمجیب الرحمٰن غفرلہ ولوا لدیہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

10/12/2022/15/5/1444

جلد نمبر : 28 فتوی نمبر :172

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔