سوال

ایک شخص نے مدرسہ کی زمین کا کچھ حصہ مسجد کو بیچا اور اس بیچی ہوئی جگہ کی رقم بھی وصول کرلی ، بعد میں اصل عاقد(مسجد کے متولی) کے فوت ہونے کے بعد ، جب مسجد کی دیوار کی تعمیر شروع کی گئی تو بذات خود وہ شخص بھی کچھ دن کام میں شریک رہا ، لیکن بعد میں یہ کہہ کر اس جگہ کی بیع سے انکار کردیا : کہ متولی نے وہ رقم مجھے بطور قرض کے دی تھی نہ کہ بطور ثمن کے ۔ اب کیا یہ زمین مسجد کی ہوگی یا مدرسہ کی؟اور اس کی بیع کا کیا حکم ہے ؟ تفصیلی سوال وجواب استفتاء کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ کے متعلق مجیب کا جواب درست ہے، جبکہ مہتمم صاحب کا انکار بلاوجہ اور نامناسب ہے ۔ لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے  کہ اگر یہ زمین وقف کی ہے ، تو وقف کے واقعی نفع و مصلحت کا خیال رکھا گیا یا نہیں ، کیونکہ وقف کی زمین انتظامیہ یا وہاں کے اہل حل وعقد کے بغیر تن تنہا بیچنا جائز نہیں ، بلکہ وقف کی مصلحت اور انتظامیہ کی اجازت ، دونوں کا لحاظ ضروری ہے ۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:60

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔