سوال

ایک شخص نے گھر میں بغیر خطبے کے عید کی نماز پڑھائی جبکہ اس کے پیچھے مقتدی ایک مرد اور دو عورتیں تھیں آیااب نماز ہوگئی یا نہیں اور ایسا کرنے سے امام گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

عید کی نماز صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ امام کے علاوہ تین مرد مقتدی ہوں اور ایک شرط یہ ہے کہ وہاں لوگوں کو نماز کی عام اجازت ہو،ان دونوں شرائط کے نہ ہونے کی وجہ سے صورت مسئولہ میں عید کی نماز نہیں ہوئی۔

لمافی تنویرالابصارمع الدر:(2/151،ایچ،ایم ،سعید)
شرائط صحة الجمعۃ منھا)(الجماعة)واقلھا ثلاثة رجال (قال فی الشامیۃ تتہ)اطلق فیھم فشمل العبید والمسافرین والمرضی والامیین والخرسی لصلاحیتھم للامامةفی الجمعة
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،حقانیہ)
“الاذان العام من الامام الحاکم فلاتصح الجمعة فی مکان یمنع منہ بعض المصلین∙”
وکذافی شرح الوقایة:(246،امدادیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/254،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1389،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/483،ادارةالقران)
وکذافی الھندیة:(1/85،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الخانیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/68،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیرغفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
24،2،1443/2021،10،31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:96

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔