سوال

ایک شخص کو کسی نے بیس ہزار روپے دیے،کہ کسی غریب کودے دینااور یہ شخص خود بھی غریب ہے لیکن شرم کے مارے کچھ کہہ نہ سکا ،تو کیا یہ رقم خود بھی استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ شخص رقم خود استعمال نہیں کر سکتا، البتہ اگر اس کو مکمل اور عمومی اختیار دیا گیا ہو،کہ جہاں چاہو اس کو خرچ کروتو پھر اگر یہ شخص خود مستحق ہو تو یہ رقم خود خرچ کر سکتا ہے۔

لما فی  الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3 /  1976،رشیدیہ )
ولا یجوز لہ ان یاخذ الزکاۃ لنفسہ الا اذا قال لہ الموکل: ضعھا حیث شئت
وفی الدر المختار: (2 /  269، سعید)
 وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : (3 / 277 ،فاروقیہ )
وکذا فی  المحیط البرھانی: (3 /255  ،دار احیاء تراث العربی )
وکذافی حاشیة حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار : ( 1/ 394 ،رشیدیہ )
وکذا فی  البحر الرائق: ( 2/  369، رشیدیہ )
وکذافی فتاوی قاضیخان : ( 4/86  ، رشیدیہ)
وکذا فی  فتاوی الھندیة: (1 /  189، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ : (1 / 359 ، طارق)
وکذا فی النھر الفائق : (1 /418  ،قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن غفرلہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/27/2/5/1444

جلد نمبر: 28 فتوی نمبر : 128

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔