سوال

کہ اوجھڑی حلال ہےیا حرام؟میں نے سنا ہےکہ اوجھڑی حرام ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حلال جانور میں جن سات (7)چیزوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے ان میں اوجھڑی کا ذکر نہیں،لہذا اوجھڑی حلال ہے۔باقی آپ نے جو سنا ہےیہ غلط ہے۔

لما فی  الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 / 2778 ،رشیدیہ )
قال الحنفیۃ:لاتوکل سبعۃ اشیاءمن اجز اء الحیوان الماکول وھی: الدم المسفوح، والذکر،والانثیان والقبل، والغدۃ ،والمثانۃ،والمرارۃ
وفی بدائع الصنائع: (4 /  190، رشیدیہ )
وامابیان مایحرم اکلہ من اجز اء الحیوان الماکول فالذی یحرم اکلہ منہ سبعۃ: الدم المسفوح ،والذکر،والانثیان والقبل ،والغدۃ  ،والمثانۃ ،والمرارۃ
وکذافی  فتاوی الھندیة: (5 /  290، رشیدیہ )
وکذا فی  مجمع الانھر: (4/489  ،المنار )
وکذافی البحر الرائق : (9 /358  ، رشیدیہ )
وکذا فی  الجوھرة النیرة: ( 2/448  ،قدیمی )
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار : ( 10/ 512 ، رشیدیہ )
وکذا فی  رد المحتار: (10 /512  ، رشیدیہ )
وکذافی  الموسوعة الفقہیة: (5 / 152 ،علومِ اسلامیہ )
وکذا فی  الفقہ الحنفی: (5 /195  ،طارق )

 

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/28/3/5/1444

جلد نمبر : 28 فتوی نمبر : 164

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔