الجواب حامداً ومصلیاً
یہ صاحب بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے گا ۔ اس عذر کی وجہ سے ، اگر رکوع و سجود پر قادر نہ ہو ، تو بیٹھ کر اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتا ہے ۔
لما فی الفقہ الاسلامی:(1/607،رشیدیہ)
من عجز عن الوضو و التیمم معاً بمرض ونحوہ کمن کان بہ قروح لایستطیع معھا مس البشرۃ بوضوء ولاتیمم وحکمہ….. ایجاب الصلاۃ علیہ عند الجمہور
وفیہ ایضاً:(1/407،رشیدیہ)
اما مقطوع الیدین والرجلین اذا کان بوجہہ جراحۃ ، فیصلی بغیر طھارۃ و لاتیمم ولا یعید علی الاصح
وفی الدر المختار:(1/80،سعید)
من قطعت یداہ ورجلاہ وبوجہہ جراحۃ یصلی بلاوضوء ولاتیمم ولایعید قال…… فی الاصح
وکذافی الولوالجیة:(1/104،حرمین)
وکذافی البدائع:(1/171،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی کتاب القفہ:(1/92،حقانیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(1/109،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/205،قدیمی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:57