سوال

ایک آدمی کے ورثاء میں صرف ایک بہن ، چھ بھانجے اور چار بھانجیاں ہیں ۔ مکمل ترکہ بہن کو ملے گا یا بھانجے اور بھانجیوں کو بھی ملے گا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مکمل ترکہ بہن کو ملے گا ، کیونکہ ذوالفروض اور عصبات نہ ہو ں تو باقی بچ جانے والا ترکہ ذوی الفروض پر لو ٹایا جاتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(10/7741،رشدیہ)
ذووالارحام وھم اقارب المیت الذین لیسو ذوی فروض ولاعصبۃ ….ویرث ھؤلاءاذا لم یکن للمیت احد من اصحاب الفروض
وفی الھندیة:(6/459،رشیدیہ)
وانما یرث ذووالارحام اذالم یکن احد من اصحاب الفروض ممن یر دعلیہ ولم یکن عصبۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(10/7737،رشیدیہ)
وکذافی الشریفیہ:(1/8،شرکت علمیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/219،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/791،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(4/496،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:136

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔