سوال

سرفراز نامی شخص کا انتقال ہوا ۔ اس نے ورثا ء میں ایک بیٹا (خالد ) ، چار بیٹیاں ، میمونہ ، سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر بیٹی میمونہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد)اور تین بہنیں سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر سکینہ کا انتقال ہوا ۔ جس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد ) دو بہنیں پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ مرحوم سرفراز کا ترکہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوا ۔اس کا ترکہ اس کے مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا/ بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحوم کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحوم نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحوم سرفراز کی کل جائیداد کے 60 برابر حصے کرکے زندہ رہ جانے والے ورثاء میں سے خالد کو 30حصے (٪50)، پروین کو 15حصے (٪25)اور زاہدہ کو 15حصے (٪25)دیے جائیں۔

فی القرآن الکریم:(النساء:11)
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً :(سورة النساء/آیة،176)
وان کانوا اخوۃ رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین
وفی السراجی:(1/8،شرکت علمیہ)
واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ …….ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً:(1/32،شرکت علمیہ)
ولوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ کزوج وبنت وام فمات….. قبل القسمۃ…. فالاصل فیہ ان تصحح مسئلۃ المیت الاول وتعطی سھام کل وارث من التصحیح ، ثم تصحح مسئلۃ المیت الثانی وتنظر بین مافی یدہ من التصحیح الاول وبین التصحیح الثانی
وکذا فی التنویر:(6/801،سعید)
وکذا فی التنویر مع الدر:(6/775،سعید)
وکذافی السراجی:(1/10،شرکت علمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/7/1442/2021/3/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:6

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔