سوال

ایک صاحب سودی بنک میں ملازم ہیں اور ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ یہی ہے،وہ حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو کیا ان کاحج کرنا صحیح ہو گا؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

حج کے لئے حلال آمدن کا ہونا ضروری ہے،البتہ اگر بنک کی آمدن سے حج کیاتو فرض حج تو ادا ہو جائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا۔

لمافی الھندیة:(1/220،رشیدیہ)
ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھاوان کانت مغصوبۃ․
وکذافی الشامیة:(3/519،رشیدیہ)
مطلب:فیمن حج بمال حرام وھنا کذلک فان الحج فی نفسہ مامور بہ وانما یحرم من حیث الانفاق وکانہ اطلق علیہ الحرمۃ،لانہ للمال دخلا فیہ،فان الحج عبادۃ مرکبۃ من عمل البدن والمال کما قدمناہ ولذا قال فی البحرویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال،فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرام………مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ وعدم قبولہ،فلا یثاب لعدم القبول ولایعقاب عقاب تارک الحج
وکذافی البحر الرائق:(2/541،رشیدیہ)
وکذافیارشاد الساری:(534،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(17/82،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/9/1443-2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر :190

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔