سوال

ایک صاحب نے اپنی ملکیت میں تین مرلہ زمین چھوڑ گئے ہیں،صاحب کی دو بیویاں ہیں،پہلی بیوی سے(6)اولاد ہیں تین بچے اور تین بچیاں،دوسری سے کوئی اولاد نہیں ہے،جبکہ دوسری نے زمین کی خریداری میں آٹھ ہزار روپےاپنے بھی خرچ کئے تھے(جس پر دو گواہ بھی موجود ہیں کہ عورت نے یہ آٹھ ہزار روپےاپنے لئے زمین خریدنے کے لئےدیے تھے)اُس وقت زمین پانچ مرلہ تھی،دو مرلہ اس کا شوہراپنی زندگی میں بیچ گیا تھا،اب تقسیمِ وراثت کا شرعی طریقہ کیا ہے؟اُس وقت زمین کا فی مرلہ(2750)روپے تھا،جبکہ موجودہ قیمت(75000)روپے ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً عورت نے زمین اپنے لئے خریدی تھی اور خاوند کو ہبہ وغیرہ بھی نہیں کی اور یہ بات عورت حلفاً بھی کہہ سکتی ہوتوآٹھ ہزار روپے کے بدلےمیں جتنی زمین خریدی گئی تھی اتنی زمین کی مالک عورت ہو گی،لہذا اسمیں وراثت جاری نہیں ہو گی،بقیہ زمین میں وراثت جاری ہو گی اور اگر عورت نے زمین اپنے لئے نہیں خریدی،یا خرید کر خاوند کو ہبہ کر دی اور خاوند نے قبضہ بھی کر لیاتو اس صورت میں یہ زمین خاوند کا ترکہ  شمار ہو گی اور اس میں وراثت بھی جاری ہو گی۔

لما فی شرح المجلة : ( 1/ 138 ،رشیدیہ )
التبرع لا یتم الا بالقبض فاذا وھب لآخر شیئاً لا تتم الھبۃ الا بالقبض
وفی الفقہ الحنفی (2 / 390 ،طارق )
یشترط لصحۃ الھبۃ ما یلی:ان یکون الواھب عاقلاًبالغاًمالکاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون الموھوب مقبوضاً
وکذافی رد المحتار : (12 / 551 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ : ( 14/421  ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیة: (4 /374 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (5 /175  ،رشیدیہ )
وکذافی شرح المجلة : ( 3/344  ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

5/2/2023/13/7/1444

جلد نمبر :28 فتوی نمبر :193

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔