الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً عورت نے زمین اپنے لئے خریدی تھی اور خاوند کو ہبہ وغیرہ بھی نہیں کی اور یہ بات عورت حلفاً بھی کہہ سکتی ہوتوآٹھ ہزار روپے کے بدلےمیں جتنی زمین خریدی گئی تھی اتنی زمین کی مالک عورت ہو گی،لہذا اسمیں وراثت جاری نہیں ہو گی،بقیہ زمین میں وراثت جاری ہو گی اور اگر عورت نے زمین اپنے لئے نہیں خریدی،یا خرید کر خاوند کو ہبہ کر دی اور خاوند نے قبضہ بھی کر لیاتو اس صورت میں یہ زمین خاوند کا ترکہ شمار ہو گی اور اس میں وراثت بھی جاری ہو گی۔
لما فی شرح المجلة : ( 1/ 138 ،رشیدیہ )
التبرع لا یتم الا بالقبض فاذا وھب لآخر شیئاً لا تتم الھبۃ الا بالقبض
وفی الفقہ الحنفی (2 / 390 ،طارق )
یشترط لصحۃ الھبۃ ما یلی:ان یکون الواھب عاقلاًبالغاًمالکاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون الموھوب مقبوضاً
وکذافی رد المحتار : (12 / 551 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ : ( 14/421 ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیة: (4 /374 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (5 /175 ،رشیدیہ )
وکذافی شرح المجلة : ( 3/344 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/2/2023/13/7/1444
جلد نمبر :28 فتوی نمبر :193