الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں جب خاوند نے اپنی بیوی کو یہ کہاکہ”میں نے تجھے آزاد کر دیا“تو اس معلوم ہواکہ”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں“اسکا مطلب یہ ہے کہ”میں ابھی اور اسی وقت طلاق دے رہا ہوں“لہذا اس جملے سے دو طلاقیں ہو گئیں اور دوسرا جملہ کہ”میں نے تجھے آزاد کر دیا“اس سے مستقل طور پر طلاق ہو گی یا نہیں؟تو یہاں پر دو باتیں سمجھنے کی ہیں
پہلی بات یہ ہے کہ یہ” آزاد کرنا“الفاظِ کنایہ میں سے ہے یا” صریح“ الفاظ میں سے؟تو اس کے بارے میں معاصر اردو فتاوی میں اختلاف ہے،البتہ فتاوی دارالعلوم دیوبند:9/268:ط:دارالاشاعت،خیر الفتاوی:5/98:ط:امدادیہ اورفتاوی فریدیہ:5/353: ط:دار العلوم صدیقیہ میں اس لفظ کو الفاظ ِکنایہ میں شمار کیاہےکہ اگر طلاق کی نیت ہویا طلاق کا ذکر ہورہا ہوتو اس لفظ سے طلاق بائن واقع ہو گی ورنہ نہیں اور ہمارا رجحان بھی اسی جانب ہے کہ یہ لفظ،الفاظِ کنایہ میں سے ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب طلاقِ صریح اور الفاظِ کنایہ جمع ہو جائیں تو الفاظِ کنایہ مثلاً:” آزاد کرنا“سے مستقل طور پر طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے،بعض کے نزدیک مستقل طور پر طلاق نہیں ہوتی ،ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہےکہ صورتِ مسئولہ میں” آزاد کردیا“سے مزید طلاق تو واقع نہ ہو گی البتہ یہ الفاظِ رجعی کو بائن سے بدل دیں گےکیونکہ عموماًطلاق دینے والایہ الفاظ مزید طلاق دینے کے لئےاستعمال نہیں کرتا بلکہ سابقہ الفاظ کو نئی تعبیر یا ان کا حکم اور سختی کے بیان کے لئے استعمال کرتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں دو طلاقِ بائن واقع ہو گئیں۔
لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (3 / 276 ،سعید )
و)یقع( ب )قولہ (أنت طالق بائن أو البتۃ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (أو أفحش الطلاق أو طلاق الشیطانأو البدعۃ أو أشر الطلاق أوکالجبل أو کالف أو ملءالبیت أو تطلیقۃ شدیدۃأو طویلۃ أو عریضۃأو أسواہ أو أشدہ أو أخبثہ) أو أخشنہ (أو اکبرہ أو أعرضہ أو أطولہ أو أغلظہ أو أعظمہ واحدۃ بائنۃ) فی الکل لأنہ وصف الطلاق بما یحتملہ (ان لم ینو ثلاثا)فی الحرۃ
وفی الھدایة( 2/97 ،البشری )
واذاوصف الطلاق بضرب من الزیادۃ او الشدۃ کان بائناًمثل ان یقول:انت طالق بائن او البتۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فتقع واحدۃ بائنۃاذا لم تکن لہ نیۃ او نوی الثنتین،اما اذا نوی الثلاث فثلاث
وکذافی الفقہ الحنفی : ( 2/170 ،طارق )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/15/23/7/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر :16