سوال

ایک عالم دین جو مدرسہ میں پڑھاتا ہےاور اس پر قرضہ جات ہیں،اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگر اس کے پاس قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد ساڈھے باون تولہ(50․52)تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر سونا،چاندی،مال تجارت یا ضرورت سے زائد سامان نہیں ہے تو زکوٰۃ دے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/373،الطارق)
والتصدق علی العالم الفقیر افضل من التصدق علی الجاھل الفقیر کما یجوز نقل الزکاۃ اذا عجل المزکی إخراجھا قبل تمام الحول
وکذافی الھندیة:(1/187،رشیدیہ)
“التصدق علی الفقیر العالم افضل من التصدق علی الجاھل․”
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(238،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/526،حقانیة)
وکذافی الھدایة:(1/189،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/243،رشیدیہ)
وکذافی شامیة:(3/356،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،8،1443/2022،3،26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:96

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔