الجواب حامداومصلیا
اگر محض قرض دینے کی وجہ سے اس کے ہاں کھانا کھا رہا ہے تو ناجائز ہے اور اگر پرانے تعلق یا معمول کے مطابق کھارہا ہے تو جائزہے۔
لمافی اعلاء السنن:(14/513،ادارةالقراٰن)
ولو أ قرضہ قرضا ثم استعملہ عملا لم یکن یستعملہ مثلہ قبل القرض کان قرضا جر منفعۃ ولو استضاف غریمہ ولم یکن العادۃ جرت بینھمابذلک حسب لہ ما اکلہ،لماروی ابن ماجۃ فی سننہ عن انس قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:(إذا أقرض أحدکم قرضا،فأھدی الیہ أوحملہ علی الدابۃفلا یرکبہاولایقبلہ،إلاأن یکون جری بینہ وبینہ قبل ذلک)
وکذا فی محیط البرھانی:(10/353،ادارةالقراٰن)
وأما دعوۃ المستقرض قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی:ولا بأس بان یجب دعوۃ رجل لہ علیہ دین،قال شیخ الإسلام:ھذا جواب الحکم فأما الافضل ان یتورع عن الإجابۃ اذا علم أنہ لأجل دین أو اشکل علیہ الحال قال شمس الأئمۃ الحلوانی:ما ذکر محمد رحمہ اللہ تعالی محمول علی ماإذا کان یدعوہ قبل الإقراض،اما اذا کان لایدعوہ قبل الاقراض او کان یدعوہ قبل الاقراض فی کل عشرین یوما وبعد الإقراض جعل یدعوہ فی کل عشرۃ أیام أو زاد فی الباجات،فإنہ لایحل
وکذا فی البحرالرائق:(6/204،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:95