سوال

ایک عورت اپنی عدت کے دوران اپنی بیٹی اور بیٹوں کے گھر جاسکتی ہے؟واضح رہے کہ اس عورت اور اس کی اولاد کاگھر ایک چاردیواری کے اندر ہے۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر ان گھروں میں اجانب اور غیر محارم (مثلاًبیٹے اور بیٹیوں کے سسرال میں سے)نہیں رہتے تو عورت دوران عدت ان گھروں میں جاسکتی ہےورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلته:(9/7202،رشیدیة)
ولا تخرج المعتدۃإلی صحن الدار التی فیھا منازل الأجانب عنہا،لأنہ کالخروج إلی الشارع۔فإن لم یکن فی الدار منازل للأجانب ،بل بیوت أو غرف ،جازلھا الخروج الی الصحن الدار ،ولا تصیر بہ خارجۃ عن الدار ولھا أن تبیت فی أی غرفۃ شاءت منھا
وفی المبسوط للسّرخسی:(6/36،دارالمعرفة)
وللمعتدۃ أن تخرج من بیتھا الی الدار وتبیت فی أی بیوت الدار شاءت لأن جمیع الدار منزل واحد وعلیھاأن تبیت فی منزلھا ۔۔۔۔۔۔إلا أن یکون فی الدار منازل غیرھم فحینئذ لاتخرج الی تلک المنازل لان صحن الدار ھنا بمنزل السکۃ وبالوصول إلیہ تصیر خارجۃ من منزلھا وھی ممنوعۃ من ذلک فی العدة۔
وکذافی فتح القدیر:(4/310،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/36،رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق :(2/488،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/535،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/246،فاروقیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/337،داراحیاتراث)
وکذافی ردالمختار علی الدرالمختار:(5/228،رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:64

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔