سوال

ایک عورت حیض سے فارغ ہوئی لیکن غسل کرنے سے پہلےایکسیڈیٹ ہو گیااور دونوں ہاتھوں میں راڈ ڈال کرسینے کےساتھ باندھ دیا گیا ہےتو اسکے غسل کا کیا طریقہ ہو گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں غسل کرنا نقصان دہ نہ ہوتو پھر اگر خود غسل کرنے پر قادر  ہوتو خود غسل کرلے،ورنہ اگر کوئی موجود ہوتو وہ غسل کرا دے۔اور اگر غسل کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہو،یازخم کے بڑھ جانے کا خوف ہوتو پھر اگر جسم کا اکثر حصہ زخمی ہےتو تیمم کرلےاور اگر اکثر حصہ صحیح سالم ہوتو اس کو دھویا جائےاور باقی زخمی بدن پر مسح کیا جائے،البتہ اگر جسم کے صحیح حصہ کو دھونے سےپانی جسم کے زخمی حصہ پر آتا ہوتو اس صورت میں بھی تیمم کر لے۔

لما فی الھندیة: (1 /28  ،رشیدیہ )
ولو کان یجد الماءالا انہ مریض یخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او ابطاءبرؤہ یتیمم لا فرق بین ان یشتدبالتحرک کالمشتکی من العرق المدنی والمبطون او بالاستعمال کالجدری ونحوہ او کان لایجد من یوضیہ ولایقدر بنفسہ فان وجد خادماًاو ما یستاجر بہ اجیر او عندہ من لو استعان بہ اعانہ فعلی ظاھر المذھب انہ لایتیمم لانہ قادر
 وفی الفقہ الحنفی:( 1/159  ،طارق )
 وفی الغسل ینظر الی مساحۃ المجروح فاذاکان اکثر البدن مجروحاًیتیمم،وبالعکس یغسل الصحیح ویمسح علی الجریح کما تقدم وھذا اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح،فلو کانت الجراحۃ بظہرہ مثلاً،واذا اصب الماءعلی راسہ سال علیھا یکون ما فوق الجراحۃکحکمھا،وان کان الصحیح والجریح متساویین فالاحوط غسل الصحیح ومسح الجریح ،ویتیمم من کانت الجراحۃفی یدیہ ولا یمکنہ غسل وجھہ وقدمیہ ولا یجد من یوضئہ
وکذافی فتاوی النوازل : ( 54  ،حقانیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 127  ،قدیمی )
وکذافی غنیة المتملی : (65   ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /312  ،دار احیاء تراث العربی )
واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2023/02/20/28/7/1444

جلد نمبر :29 فتوی نمبر : 74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔