الجواب حامداً ومصلیاً
صؤرت مسئولہ میں اگر عورت نے واقعتا کسی وجہ کے بغیر خلع کا دعوی دائر کیا ہے ، تو اس سے شرعا طلاق نہیں ہوئی ، لیکن چونکہ عدالت نے خلع کا فیصلہ دےدیا ہے اور اس سے ایک طلاق بائن ہوجاتی ہے ، اس لیے احتیاطا دوبارہ نکاح کرکے اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے
لما فی الھدیہ:(2/383،رشیدیہ)
فاذافعل ذالک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وفی حاشیة الطحطاوی:(2/187،رشیدیہ)
وحکمہ ان الواقع بہ) ای بالخلع ولو بلفظ البیع او المباراۃ ….(طلاق بائن )لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7015،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/271،امدادیہ)
وکذافی المبسوط السرخسی:(6/171،بیروت)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(19/244،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:180