سوال

ایک عورت خوشی سے اپنے ماں باپ کے گھر گئی ، وہاں اس کی والدہ نے مطالبہ کردیا کہ تم اپنے شوہرکو خلع کا کہو ، لیکن لڑکی اس بات کے لیے راضی نہیں تھی بلکہ ماں کے دباؤ میں آکر اس نے خلع کا دعوی کردیا اور عدالت نے خلع کی ڈگری بھی جاری کردی ، اب اس عورت کے پاس اپنے شوہر کے پاس جانے کیا شرعی حل ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صؤرت مسئولہ میں اگر عورت نے واقعتا کسی وجہ کے بغیر خلع کا دعوی دائر کیا ہے ، تو اس سے شرعا طلاق نہیں ہوئی ، لیکن چونکہ عدالت نے خلع کا فیصلہ دےدیا ہے اور اس سے ایک طلاق بائن ہوجاتی ہے ، اس لیے احتیاطا دوبارہ نکاح کرکے اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے

لما فی الھدیہ:(2/383،رشیدیہ)
فاذافعل ذالک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وفی حاشیة الطحطاوی:(2/187،رشیدیہ)
وحکمہ ان الواقع بہ) ای بالخلع ولو بلفظ البیع او المباراۃ ….(طلاق بائن )لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7015،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/271،امدادیہ)
وکذافی المبسوط السرخسی:(6/171،بیروت)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(19/244،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:180

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔