سوال

زید نے عمر سے کہا مجھے کنٹرول شیڈ میں استعمال ہونے والا پرزہ دلوادیں ، عمر نے دوکاندار سے بات کی ، دوکاندار نے کہا ہم ویسے تو 60000 روپے کا بیچتے ہیں ، آپ کو 50000روپے کا دیں گے ، عمر نے دوکاندار سے کہا کہ زید خریدنا چاہتا ہے دوکاندار نے کہا، اگر آپ کہیں تو آپ کے لیے ہم مارجن رکھتے ہیں ، عمر نے کہا رکھ لیں، زید آیا اس نے پرزہ دیکھا ، دوکاندار سے 55000 روپے میں معاملہ طے ہوگیا ، دوکاندار نے وہ پرزہ زید کو 55000 کا بیچ کر 50000اپنے پاس رکھے اور 5000عمر کو دیدیے ، جبکہ زید کو اس بات کا علم نہیں ہے، اب جواب طلب بات یہ ہے کہ عمر کے لیے 5000لینا جائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں دوکاندار کی یہ پیش کش (بکر کو بتلائے بغیر ) قبول کرکے ،عمر نے بکر کے ساتھ خیانت کی ہے کیونکہ جو رعایت عمر کا واسطہ بننے کے سبب بکر کو حاصل ہونا تھی ، وہ عمر نے خود حاصل کرلی ہے ، جس کی خبر ہونے پر بکر کے اعتماد کو یقیناً ٹھیس پہنچے گی، اس لیے عمر کے لیےیہ رقم لینا جائز نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة/آیة،29)
یاایھاالذین آمنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض بینکم
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
واکل مال الغیر بالباطل…..ان یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم…..وکذالک ا لاکل عندغیرہ اللھم الا ان یکون المراد الاکل عندغیرہ بغیر اذنہ
وفی الموسعة الفقھیة:(31/220،علوم اسلامیہ)
یقع الغش فی المعاملات کثیرا بصورۃ التدلیس القولی ، کالکذب فی سعر المبیع
وکذافی تفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/493،بیروت)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/365،رحمانیہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/486،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:20

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔