الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں دوکاندار کی یہ پیش کش (بکر کو بتلائے بغیر ) قبول کرکے ،عمر نے بکر کے ساتھ خیانت کی ہے کیونکہ جو رعایت عمر کا واسطہ بننے کے سبب بکر کو حاصل ہونا تھی ، وہ عمر نے خود حاصل کرلی ہے ، جس کی خبر ہونے پر بکر کے اعتماد کو یقیناً ٹھیس پہنچے گی، اس لیے عمر کے لیےیہ رقم لینا جائز نہیں ۔
لما فی القرآن الکریم:(سورة/آیة،29)
یاایھاالذین آمنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض بینکم
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
واکل مال الغیر بالباطل…..ان یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم…..وکذالک ا لاکل عندغیرہ اللھم الا ان یکون المراد الاکل عندغیرہ بغیر اذنہ
وفی الموسعة الفقھیة:(31/220،علوم اسلامیہ)
یقع الغش فی المعاملات کثیرا بصورۃ التدلیس القولی ، کالکذب فی سعر المبیع
وکذافی تفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/493،بیروت)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/365،رحمانیہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/486،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:20