الجواب حامداً ومصلیاً
بچیوں کی حقیقی اور شرعی ضروریات کو اپنی وسعت کے بقدر کرنا باپ کی ذمہ داری ہے خواہ وہ کسی بھی جگہ ہو ۔
لما فی البحرالرائق:(4/300،رشیدیہ)
وفی المجتبیٰ ان ذالک یختلف باختلاف الاماکن والعادات فیجب علی القاضی اعتبار الکفایۃ بالمعروف فی کل وقت ومکان
وفی احکام القرآن للجصاص:(1/551،قدیمی)
وقولہ تعالی بالمعروف یدل علی ان الواجب من النفقۃ والکسوۃ ھو علی قدر حال الرجل….ویدل ایضاً علی انھا علی مقدار الکفایۃ …..وقد بین ذالک بقولہ عقیب ذالک ( لاتکلف نفسا الا وسعھا)
وکذافی التفسیرالمنیر:(1/732،امیرحمزہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/693،قدیمی)
وکذافی تفسیرالقرطبی:(3/163،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/340،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار:(3/612،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:65